🚚 Free Worldwide Shipping on All Orders!Shop Now
HomeStore

Arsh Ki Matti - عرش کی مٹی

Product image 1

Arsh Ki Matti - عرش کی مٹی

Pages: 311

Category: Poetry

یادوں کے خزانوں اور بے وطنی کے افسانوں سے غزلیں اور نظمیں کشید کرنے والا شیر از راج۔ بے لاگ شاعری تو اپنے وطن میں بھی بے وطن ہوتی ہے اور پر دیس میں بھی بے وطن ۔ صرف اس وجہ سے کہ شاعری تزئین آرزو ہے۔ ماضی کی خوشگوار اور ناگوار یادوں سے دوچار، حال کی بساط پر نئی چالیں چلتی ہوئی، مستقبل میں کسی نوائے نو کے خواب دیکھتی ہوئی، کسی علاقے یا زمانے سے بیاہی ہوئی نہیں ۔ شیر از راج کی بے ساختگی سے عبارت شاعری شعور اور لاشعور کے جن سرچشموں سے اٹھ کر بہتی چلی آتی ہے اس میں بہت کچھ ہے پر چھائیاں بھی، پھول بھی ، سیر چشمی بھی تشنگی بھی خس و خاشاک بھی۔ شاعر نے ان سب کیفیتوں کو ترتیب دینے کی کوشش کی ہے۔ دکھا بہت کچھ دیا ہے، چھپایا کچھ بھی نہیں ۔ ہر طرف ایک اداس بے غرضی کارفرما ہے۔

محمد سلیم الرحمن

Pages: 311

Category: Poetry

یادوں کے خزانوں اور بے وطنی کے افسانوں سے غزلیں اور نظمیں کشید کرنے والا شیر از راج۔ بے لاگ شاعری تو اپنے وطن میں بھی بے وطن ہوتی ہے اور پر دیس میں بھی بے وطن ۔ صرف اس وجہ سے کہ شاعری تزئین آرزو ہے۔ ماضی کی خوشگوار اور ناگوار یادوں سے دوچار، حال کی بساط پر نئی چالیں چلتی ہوئی، مستقبل میں کسی نوائے نو کے خواب دیکھتی ہوئی، کسی علاقے یا زمانے سے بیاہی ہوئی نہیں ۔ شیر از راج کی بے ساختگی سے عبارت شاعری شعور اور لاشعور کے جن سرچشموں سے اٹھ کر بہتی چلی آتی ہے اس میں بہت کچھ ہے پر چھائیاں بھی، پھول بھی ، سیر چشمی بھی تشنگی بھی خس و خاشاک بھی۔ شاعر نے ان سب کیفیتوں کو ترتیب دینے کی کوشش کی ہے۔ دکھا بہت کچھ دیا ہے، چھپایا کچھ بھی نہیں ۔ ہر طرف ایک اداس بے غرضی کارفرما ہے۔

محمد سلیم الرحمن

$1.24

Original: $4.12

-70%
Arsh Ki Matti - عرش کی مٹی

$4.12

$1.24

Description

Pages: 311

Category: Poetry

یادوں کے خزانوں اور بے وطنی کے افسانوں سے غزلیں اور نظمیں کشید کرنے والا شیر از راج۔ بے لاگ شاعری تو اپنے وطن میں بھی بے وطن ہوتی ہے اور پر دیس میں بھی بے وطن ۔ صرف اس وجہ سے کہ شاعری تزئین آرزو ہے۔ ماضی کی خوشگوار اور ناگوار یادوں سے دوچار، حال کی بساط پر نئی چالیں چلتی ہوئی، مستقبل میں کسی نوائے نو کے خواب دیکھتی ہوئی، کسی علاقے یا زمانے سے بیاہی ہوئی نہیں ۔ شیر از راج کی بے ساختگی سے عبارت شاعری شعور اور لاشعور کے جن سرچشموں سے اٹھ کر بہتی چلی آتی ہے اس میں بہت کچھ ہے پر چھائیاں بھی، پھول بھی ، سیر چشمی بھی تشنگی بھی خس و خاشاک بھی۔ شاعر نے ان سب کیفیتوں کو ترتیب دینے کی کوشش کی ہے۔ دکھا بہت کچھ دیا ہے، چھپایا کچھ بھی نہیں ۔ ہر طرف ایک اداس بے غرضی کارفرما ہے۔

محمد سلیم الرحمن